Home » Tag Archives: اقبال عظیم

Tag Archives: اقبال عظیم

ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہے (اقبال عظیم)۔

ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہے اب در بدری ہے نہ غریب الوطنی ہے   وہ شمع حرم جس سے منور ہے مدینہ کعبے کی قسم رونق کعبہ بھی وہی ہے   اس شہر میں بک جاتے ہیں خود آ کے خریدار یہ مصر کا بازار نہیں ، شہر نبیؐ ہے   اس ارضِ مقدس پہ ذرا دیکھ ...

Read More »

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں(اقبال عظیم)۔

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے طیبہ ...

Read More »

میں تو خود انؐ کے در کا گدا ہوں(اقبال عظیم)۔

میں تو خود انؐ کے در کا گدا ہوں ، اپنے آقاؐ کو میں نذر کیا دوں اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں آنے والی ہے اُنؐ کی سواری ، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے ، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں میری جھولی ...

Read More »

جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے (اقبال عظیم)۔

جہاں روضۂ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے ، تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے   محمدؐ کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرے بشر کی سرِ عرش مہماں نوازی ، یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور ...

Read More »

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ (اقبال عظیم)۔

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ   چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ   کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ   غلامان محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں ...

Read More »

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت (اقبال عظیم)۔

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی   میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا، تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی وہ دوبارہ سچ مچ مرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی   جو اک ہاتھ سے ...

Read More »