Home » articles » معاشرتی » موجودہ ٹیکس نظام کے مضمرات اور اِن کا تدارک

موجودہ ٹیکس نظام کے مضمرات اور اِن کا تدارک

mian-ashraf-asmi

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
ممبر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن
ہر شخص جو کہ کوئی بھی چیز مارکیٹ سے خریدتا ہے وہ ٹیکس دیتا ہے۔ حتی کہ صابن کی ٹکی خریدنے والا بھی ٹیکس گزار ہے۔پاکستان میں بیکری کی بڑی بڑی چین کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کا استعمال بڑھا ہے ہر پروڈکٹ پہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اِسی طرح بجلی کا بل، گیس اور پانی کا بل سب میں ٹیکس تو شامل ہے، اِسی طرح ہر شے جو مارکیٹ میں فروخت ہونے کے لیے پیش کی جاتی ہے اُس پر ٹیکس لگا ہوتا ہے۔ اِن حالات میں دیکھا جائے تو ٹیکس ہر پاکستانی دئے رہا ہے۔ وہ طبقہ جو زیادہ مراعات یافتہ ہے وہ ٹیکس اُتنا ہی ادا کرتا ہے جتنا ایک عام آدمی کیونکہ ڈائریکٹ ٹیکس کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے ان دائریکٹ ٹیکسوں کی وصولی سے غریب آدمی کی قوتِ خرید پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے اور اِس لیے غریب آدمی کو اپنی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر حکومت کی مشینری درست طور پر کام کرئے اور امیروں سے ٹیکس لے اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کے اقدامات اُٹھائے تو ملک یقینی طور پر فلاحی ریاست بن سکتا ہے لیکن چونکہ اشرافیہ ہی اِس ملک کی خدا ہے اِس لیے امیروں سے تو ٹیکس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن دوسری طرف عام آدمی سے ہر شے پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے یوں عام آدمی کی قوت خرید میں کمی اور افراطِ زر میں اضافہ۔ یہ ہے اِس ملک کی بدنصیبی۔ کہ وہ طبقہ جو ملک کی معیشت کا پہیہ اپنے خون پسینے سے چلاتا ہے وہ کسان جو دھرتی کا سینہ چیر کا اناج اُگاتا ہے اُس کی اپنی معاشی حالت اتنی خراب کے دو وقت کی روٹی اُس کے لیے مشکل بنی ہوئی ہے۔ حکومت ڈائریکٹ ٹیکسوں کی وصولی میں ناکامی کی
سزا عام آدمی کو دے رہی ہے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر اکرام رقم طراز ہیں کہ بدقسمتی سے آج تک پاکستان میں کسی بھی حکومت نے قومی سطح پر ایک ایسے نظام محصولات کی طرف توجہ نہیں دی جو ہمارے وطنِ عزیز کے لیے تیز رفتار صنعتی اور معاشی ترقی میں ممدومعاون ثابت ہو۔ اس کے برعکس ظالمانہ نظام محصولات میں لوگوں کو تکلیف دینے، غیر قانونی طریقوں سے ہدف حاصل کرنے اور امیر غریب کے درمیان خلیج وسیع کرنے کے علاوہ ہمارے حکمران کچھ نہیں کررہے۔ معاشی ترقی کی رفتار ہماری آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کرپارہی۔ حکومت اندرونی اور بیرونی قرضہ جات کے ذریعے کام چلا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہم قرضوں کی دلدل میں اتنا دھنس چکے ہیں کہ پچھلے قرضوں کا سود ادا کرنے کے بعد مزید قرضوں پر انحصار ہے تاکہ ترقیاتی کاموں کا سلسلہ چلتا رہے، اور روزمرہ کے اخراجات پورے ہوسکیں۔اِس سال ہمارا مالی خسارہ دوٹریلین روپوں سے تجاوز کرجائے گا۔ محصولات کا 70 فیصد محض قرضوں کے سود کی ادائیگی کی نذر ہوجائے گا۔ شاہانہ اخراجات اور قرضوں کا کم جمع ہونا صرف بڑے مسائل نہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ معاشی سطح پر ہرسال بیس لاکھ نئے افراد کے لیے روزگار کا بندوبست ہے۔ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل آبادی کے لیے پاکستان میں سب کو روزگار دینے کے لیے معاشی ترقی کی شرح نمو کم از کم آٹھ فیصد چاہیے، مگر فی الحال یہ چار فیصد کے لگ بھگ ہے۔قرضوں کا بوجھ تو اب ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے، جوکہ معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ حکومت کے پاس اتنی سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ نظامِ محصولات کو درست کرکے لوگوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دے۔ مربوط نظام، جس میں تکنیکی تعلیم اور صنعتی سرمایہ کاری کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جائے، ہماری پالیسی میں سرے سے ہی موجود نہیں۔ توانائی کے بحران اور ظالمانہ محصولات کے باعث کوئی نئی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں۔ موجودہ صنعتیں بھی بحران کا شکار ہیں۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے سے ہی محصولات میں اضافہ ہوگا، مگر حکومت اس کے برعکس کررہی ہے۔ پیچیدہ اور غیر منصفانہ محصولات کے ذریعے نہ تو آمدن میں اخراجات کے برابر اضافہ کر رہی ہے اور نہ ہی معاشی ترقی کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی ظرف توجہ ہے۔بینک لوگوں کو سود پر گاڑیاں دے کر ہمارے ماحول میں مزید آلودگی اور تیل کی درآمد کے خرچہ کو بڑھا رہے ہیں مگر صنعتی اور معاشی ترقی بذریعہ نئی سرمایہ کاری کے لیے قرضہ جات نہیں دے رہے۔سڑکوں پر گاڑیوں کایہ عالم ہے کہ ہر وقت لوگوں کے لیے کہیں آنا جانا عذاب سے کم نہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے حکومتی سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔حکومتی کنٹرول میں چلنے والے ادارے ٹیکس گزاروں کی جیب پر اتنا بڑا بوجھ ہیں۔ ان اداروں کے نقصانات اربوں میں ہیں مگر وہاں عیاشی کا عالم دیدنی ہے۔ان حالات کا حل ایک ایسے نظام محصولات میں ہے جو حکومت کے لیے کم از کم دس ٹریلین روپے اکٹھا کر سکے۔اس سے نظام تعلیم،صحت،ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کے علاوہ وہ تمام اخراجات بھی پورے ہو سکیں گے جو ریاست کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔اس وقت مرکزی حکومت محض تین ٹریلین کا ریونیو بذریعہ ایف بی آر اکٹھا کر رہی ہے اور وہ بھی اربوں کے ریفنڈز روک کر اور بڑے اداروں سے ایڈوانس وصول کرنے کے بعد ایف بی آر کی ناکامی کی وجہ سے ملک میں متوازی معیشت کا سائز 100ٹریلین تک پہنچ چکا ہے۔اگر اس پر محض10فیصد ٹیکس بھی لے لیا جائے تو ایک سال میں ہی دس ٹریلین روپے حکومتی خزانہ میں آسکتے ہیں۔لوگوں پر واضح کردیا جائے کہ اگر وہ غیر ٹیکس شدہ پوشیدہ اثاثوں پر ٹیکس ادا نہیں کریں گے تو وہ تمام بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں گے اور ان کو دس سال کی قید بھی ہو سکتی ہے۔ایک دفعہ اس اعلان کے بعد مستقبل کے لئے سادہ ٹیکس نظام نافذ کر دیا جائے جس میں تمام طرح کے محصولات کو ختم کر کے ایک ہی ٹیکس میں ضم کر دیا جائے۔دس فیصد کے لحاظ سے ہرطرح کی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ کر دیا جائے۔اور اس کی وصولی کی ایک فعال قومی اوران محصولات کے ذریعے اکٹھا کیا جائے جو کسی طرح سے کسی بھی ٹیکس چور کے ساتھ رعایت نہ برتے۔لوگوں سے بآسانی دس ٹریلین کا ایک ٹیکس وصول کرنے کے بعد ان کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔یہ نظام ترقی کے لیے بھی معاون ثابت ہو گا۔اشرافیہ جو کہ خود دھڑا دھڑ پیسے بنا رہی ہے اُسے پاکستان کے عوام پسینے کو نچوڑنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ پاکستانی معیشت کو اتنا بڑی طرح چنگل میں پھنسا دیا گیا ہے۔ بے روزگاری کا حل نہ ہونا ہی دہشت گردی کا سبب بن رہا ہے۔ جس قوم کے نوجوان مایوس ہوں اُس ملک کے مستقبل کے حوالے سے کیا کہا جاسکتا ہے۔ موبائل فون کا ستعمال اتنا سستا ہوگیا ہے کہ عوام تک اطلاعات کی رسائی بہت بہتر ہے۔ امریکہ ، برطانیہ یورپ کی عوام کا رہن سہن دیکھ کر پاکستانی غریب اور محکوم عوام اشرافیہ کے لیے کوئی اچھی سوچ نہیں رکھ پار ہی۔غریب اور امیر کے درمیاں بڑی خلیج کا حائل ہونا ۔ انصاف عوام سے دور ہونا، روزگار نہ ملنا۔ اِسی وجہ سے تو امن اِس معاشرئے میں مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔چوری ڈاکے سٹریٹ کرائمز سب کچھ کچھ معاشی ناہمواریوں کا شاخسانہ ہے۔ہمارے پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ عوام کو اتنا ریلیف ضرور دیں کہ وہ زندہ رہ سکیں ورنہ وہ اشرافیہ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔امیر شہر نے شکاری پال رکھے ہیں۔

Earn Online | Urdu Articles | Falak News

About Monitoring Desk

Monitoring Desk

Check Also

’’ٹھگ بھوکا نہیں مر سکتا‘‘

تحریر۔۔۔چوہدری ناصر گجر ’’کہا جاتا ہے کہ جب تک لالچی زندہ ہے ٹھگ بھوکا نہیں ...